11 اکتوبر 2011 - 20:30

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کل یمن کی صورتحال کے بارے میں اجلاس طلب کیا تھا۔

 ابنا: یمن کے امور میں اقوام متحدہ کے نمائندے جمال بن عمر نے اس اجلاس میں یمن کی صورتحال کی وضاحت کرتے ہوۓ اس ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لۓ سلامتی کونسل کے اراکین کو تجاویز پیش کیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہےکہ یورپ کے بعض ممالک یمن کے بارے میں قرارداد کا مسودہ تیار کرنے میں مصروف ہیں جسے آئندہ چند دنوں کے اندر سلامتی کونسل کے اراکین کو پیش کردیا جاۓ گا۔ اقوام متحدہ میں جرمنی کے نمائندے پیٹر ویٹینگ نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ وہ یمن کے سلسلے میں سرگرمی دکھاۓ ، علی عبداللہ صالح سے اقتدار سے الگ ہونے کا مطالبہ کرے اور اس ملک میں اقتدار کی منتقلی کی تجویز کی حمایت کرے۔ اس سے قبل بھی خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک اقتدار سے علی عبداللہ صالح کی برطرفی اور اقتدار اس کے نائب کو منتقل کۓ جانے کی تجویز پیش کرچکے ہیں۔ لیکن یمن کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح اور اس کے مخالف گروہوں نے بھی اس تجویز کی مخالفت کی۔ اس وقت یمن میں حکومت کے مخالفین کا اقوام متحدہ سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ یمن کے امور میں مداخلت کر کے علی عبداللہ صالح کی اقتدار سے برطرفی کا راستہ ہموار کرے۔ یمن کی بعض سیاسی جماعتوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ علی عبداللہ صالح اور اس کے وزراء کے خلاف مقدمہ چلاۓ جانے کے سلسلے میں ٹھوس اقدام انجام دے۔ یمن میں حکومت مخالف اتحاد نے اسی سے ملتا جلتا مطالبہ کرتے ہوۓ اعلان کیا ہےکہ وہ یمن کے معاملے میں اقوام متحدہ کے کردار کی بھر پور حمایت کرے۔ یمن کے امور میں مداخلت کا مطالبہ ایسی حالت میں کیا گيا کہ جب یمن کے دار الحکومت صنعا میں واقع تغییر اسکوائر میں لوگوں کا جم غفیر جمع تھا۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران یمن کے دارالحکومت سمیت پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہنے کے علاوہ یمن میں فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں بھی منظر عام پر آرہی ہیں۔ کل ہی یمن کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے ذرا قبل یمن میں صدارتی گارڈ کے فوجیوں کے ساتھ فرسٹ بریگیڈ کی جھڑپ ہوئي۔ عینی شاہدین کے مطابق اس جھڑپ میں صدارتی گارڈ کے فوجیوں نے انقلاب کے حامی فوجیوں پر توپ کے گولے اور مارٹر گولے داغے ۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح اور اس کے حامی حکومت کی سرنگونی کو تاخیر میں ڈالنے کے لۓ یمن میں موجودہ روش کے ساتھ تشدد کو ہوا دینا اور داخلی جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال بعض رپورٹوں سے پتہ چلتا ہےکہ یمن کا ڈکٹیٹر آئندہ چند دنوں میں دوبارہ یمن سے فرار ہوجاۓ گا۔ رپورٹوں میں کہا گيا ہےکہ علی عبداللہ صالح علاج کے بہانے جرمن جانا چاہتا ہے۔ لیکن اس میں شک نہیں ہےکہ علی عبداللہ صالح کا کام تمام ہوچکا ہے کیونکہ یمن کے اندر اس کی گرفتاری اور اس پر مقدمہ چلاۓ جانے کا مطالبہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے اور عالمی سطح پر بھی علی عبداللہ صالح پر اقتدار چھوڑنے کے لۓ ڈالے جانے والے دباؤ میں شدت آچـکی ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ یمن پر تینتیس برسوں تک ظلم و استبداد کے ساتھ حکومت کرنے والا ڈکٹیٹر اب بے سہارا ہو کر رہ گیا ہے۔............

/169